Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

ڈاکٹروں کے مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے، پنجاب کی صوبائی حکومت کی کارروائی کے بعد پہلے ہی مسائل ومشکلات کا شکار ہزاروں ڈاکٹر ملک چھو


Tuesday, 03 July 2012   04:57:01

ڈاکٹروں کے مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے، پنجاب کی صوبائی حکومت کی کارروائی کے بعد پہلے ہی مسائل ومشکلات کا شکار ہزاروں ڈاکٹر ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے، جس سے ملک کی عوام کی صحت کو نقصان پہنچے گا، یہ صورتحال تباہ کن ثابت ہوگی۔ پی ایم اے کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مرزا علی اظہر کی پریس کانفرنس
 کراچی ۔ 2 جولائی (اے پی پی) پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے حکومت پنجاب کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطالبات کو فوری طور پر منظور کیا جائے، پنجاب کی صوبائی حکومت کی کارروائی کے بعد پہلے ہی مسائل ومشکلات کا شکار ہزاروں ڈاکٹر ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے، جس سے ملک کی عوام کی صحت کو نقصان پہنچے گا، یہ صورتحال تباہ کن ثابت ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار پی ایم اے کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے پیر کو پی ایم اے ہاﺅس میں ہونے والی پریس کانفرنس میں کیا۔ اس موقع پر پی ایم اے سندھ کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر پیر منظور اور کراچی کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قاضی واثق کے علاوہ ڈاکٹر قیصر سجاد بھی موجود تھے جبکہ سندھ یونائٹڈ ڈاکٹرز فورم نے اپنی پریس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ پنجاب کے نوجوان ڈاکٹروں کو 48 گھنٹوں میں رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں سرکاری ہسپتال بند کردیئے جائیں گے، پنجاب حکومت نے روش تبدیل نہ کی تو 5 جولائی کو لاہور کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ ڈاکٹروں کو دیوار سے لگانے پر پورے ملک میں شدید احتجاج کیا جائے گا۔ پی ایم اے کے مرکزی سیکریٹری جنرل ڈاکٹر مرزا علی اظہر نے کہا کہ پی ایم اے سمجھتی ہے کہ نوجوان ڈاکٹروں کے تمام مطالبات جائز ہیں لیکن ان کو منوانے کے لئے اختیار کیا جانے والا طریقہ کار مناسب نہیں، مگر حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں سخت نااہلی اور غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے ڈاکٹروں کے خلاف جاری میڈیا مہم بھی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے نوجوان ڈاکٹروں کے خلاف پولیس ایکشن کی بھرپور مذمت کرتی ہے۔ احتجاج کرنے والے نوجوان ڈاکٹرز کافی عرصے سے اپنی تنخواہوں، ترقی کے نظام اور کیرئیر اسٹرکچر میں مناسب تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں مگر یہ امر قابل افسوس ہے کہ حکومت پنجاب وعدے کرنے کے باوجود ان اعلانات پر عمل نہیں کرسکی، جو ڈاکٹروں سے مذاکرات میں کئے گئے تھے۔ ڈاکٹروں کے خلاف پولیس ایکشن اور تشدد قطعی طور پر نامنظور ہے۔ دنیا کے کسی مہذب ملک میں حکومت ڈاکٹروں کے خلاف اس قسم کی کارروائی نہیں کرتی۔ ڈاکٹروں کے ساتھ یہ رویہ قابل افسوس اور مذمت ہے جبکہ حکومت پنجاب کا رویہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ڈاکٹروں کو ہڑتال نہیں کرنی چاہیے تھی کیونکہ یہ اس معزز پیشے کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ صحت کی سہولت فراہم کرنا ان کی ذمہ داری ہے ۔ نوجوان ڈاکٹرز ایسی کارروائیوں سے اجتناب کریں ، جن سے مریضوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ حکومت پنجاب کی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی سے بددلی پیدا ہوگی۔ ہزاروں کی تعداد میں ڈاکٹرز ملک چھوڑ کر چلے جائیں گے، جہاں پہلے ہی ڈاکٹروں کی کمی ہے اور عطائی انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایم اے مطالبہ کرتی ہے کہ حکومت پنجاب فوری طور پر ڈاکٹروں کے خلاف کارروائیاں ختم کرے اور پولیس ایکشن سمیت دیگر پرتشدد کارروائیوں اور اپنے غیر جمہوری طرز عمل پر حکومت پنجاب ڈاکٹروں سے غیر مشروط طور پر معافی طلب کرے اور ان کے جائز مطالبات کو فوری طور پر تسلیم کیا جائے۔ دریں اثناءمقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے سندھ کی صدر ڈاکٹر ثمرینہ ہاشمی نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے نوجوان ڈاکٹرز کو ان کے حقوق دینے کی بجائے تشدد اور گرفتاریاں انتہائی افسوسناک امر ہے۔ جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔ اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کرنے والے نوجوان ڈاکٹروں کو پابند سلاسل کرنا پنجاب حکومت کی نااہلی ہے، جو ڈاکٹروں کے جائز مطالبات کو تسلیم کرکے جمہوری تقاضوں کو پورا کرنے کی بجائے انہیں تشدد کا نشانہ بناکر آمریت کی یاد تازہ کررہی ہے۔ بلند وبانگ دعوے کرنے والے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف قوم کے مسیحاﺅں کی تذلیل کرنے پر نہ صرف ڈاکٹروں بلکہ پوری قوم سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر پنجاب میں گرفتار کئے گئے ڈاکٹروں کو آئندہ 48 گھنٹوں میں رہا نہ کیا گیا تو کشمور سے لے کر خیبر تک سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے سے قاصر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ عدم رہائی کی صورت میں 5 مارچ کو لاہور کی جانب مارچ کیا جائے گا۔ جس میں ملک بھر کے ڈاکٹرز شرکت کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب میڈیا کے ذریعہ ڈاکٹروں کے امیج کو خراب کرنے کے لئے یکطرفہ تاثر پیش کررہی ہے اور ان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کرکے عوام کو بدظن کیا جارہا ہے۔ مریضوں کی اموات تو ڈاکٹروں کی موجودگی میں بھی ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ڈاکٹروں سے اظہار یکجہتی کے لئے خیبر پختونخواہ اور بلوچستان کے بعد سندھ کے ڈاکٹرز بھی اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور انہیں کسی بھی حالت میں تنہا نہیں چھوڑا جائے گا جبکہ آئندہ کے تمام حالات کی ذمہ داری پنجاب حکومت پر عائد ہوگی۔