Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون موجود نہیں، یہ معاملہ 16 رکنی بینچ میں زیرالتوا ہے ، پریس کانفرنس اگرغلط تھی تو عدالت عدلیہ کیخلاف تمام پریس


Tuesday, 03 July 2012   04:59:39

 ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون موجود نہیں، یہ معاملہ 16 رکنی بینچ میں زیرالتوا ہے ، پریس کانفرنس اگرغلط تھی تو عدالت عدلیہ کیخلاف تمام پریس کانفرنسوں اور جلسوں پر پابندی عائد کرے ،عدالتی عمل پراثراندازہونا توہین عدالت ہے توپھرعدلیہ کی حمایت میں جلسے اور پریس کانفرنس کرنے والے بھی توہین عدالت کررہے ہیں، سپریم کورٹ میںسابق وفاقی وزیرڈاکٹربابراعوان کیخلاف توہین عدالت کے مقدمہ میں بابر اعوان اور اٹارنی جنرل کے دلائل
 اسلام آباد ۔ 2 جولائی (اے پی پی) سپریم کورٹ میںسابق وفاقی وزیرڈاکٹربابراعوان کیخلاف توہین عدالت کے مقدمہ میں بابر اعوان اور اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا ہے کہ ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون موجود نہیں پھر توہین عدالت میں کارروائی کس طرح ہو سکتی ہے، اس قانون کا معاملہ 16 رکنی بینچ میں زیرالتوا ہے۔ پیرکو بابراعوان کیخلاف توہین عدالت کے مقدمہ کی سماعت جسٹس اعجاز افضل اور جسٹس اطہر سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ بابراعوان نے عدالت کے روبرو دلائل دیتے ہوئے کہاکہ پی آئی ڈی میں کی جانے والی پریس کانفرنس اگرغلط تھی تو عدالت ایسی تمام سیاسی پریس کانفرنسوں اور جلسوں پر پابندی عائد کرے جن میں عدلیہ کیخلاف بات کی جاتی ہے۔ با بر اعوان نے کہا کہ توہین عدالت کے تینوں آرڈیننس ختم ہو چکے ہیں، اس وقت ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون موجود نہیں،31جولائی کے فیصلے میں سپریم کورٹ نے عبد الحمید ڈوگر اور دیگر پی سی او ججوں کو فارغ کر دیا تھا لیکن جن ججوں نے ماضی میں پی سی او کے تحت حلف اٹھایا تھا انہیں تحفظ دے دیا گیا۔ یہ نظریہ ضرورت ہے جسے خود عدالت نے استعمال کیاہے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پیر کو حلف جائز ہو اور منگل کو اٹھایا جانے والا حلف ناجائز۔ بابر اعوان نے کہا کہ انہیں بنیادی آئینی حقوق سے محروم کیا جارہا ہے۔ سات ماہ سے میرا وکالت کا لائسنس معطل ہے، جج صاحبان بھی کئی ماہ تک اس طرح کی صورتحال کاسامناکرچکے ہیںاس لئے ان کو اس صورتحال کا زیادہ احساس ہونا چاہئیے۔ ان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 204 کے تحت عدالتی عمل پراثراندازہونا اگر توہین عدالت ہے توپھرعدلیہ کی حمایت میں جلسے اور پریس کانفرنس کرنے والے بھی توہین عدالت کررہے ہیں۔ عدالت پہلے اس بات کا تعین کرے کہ ملک میں توہین عدالت کا کونسا قانون رائج ہے۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ آپ دلائل دیتے رہیں، عدالت تمام امورکا فیصلہ ایک ہی بارکرے گی۔ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل عرفان قادر نے کہا کہ ملک میں توہین عدالت کا کوئی قانون موجود ہی نہیں پھر توہین عدالت میں کاروائی کس طرح ہو سکتی ہے۔ اس قانون کا معاملہ 16 رکنی بینچ میں زیرالتوا ہے اوراس معا ملے میںوزیر اعظم کو سنائی گئی سزا بھی غیر آئینی اور غیر قانونی ہے۔ جس پر جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کا کیس نہیں سن رہے ۔ا ٹارنی جنرل نے کہاکہ توہین عدالت میں پراسیکیوٹ کرنا عدالت کا نہیں پراسیکیوٹر کا کام ہے۔ اس کیس میں پراسیکیوٹر میں ہوںاور میں تو بابر اعوان کو پراسیکیوٹ کر ہی نہیں رہا، پھر عدالت سزا کس طرح دے سکتی ہے۔ اسلئے یہ مقدمہ اب ختم کر دینا چاہیے ۔بابر اعوان نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں میڈیکل چیک اپ کرانا ہے اس لئے انہیں تین روز کا وقت دیا جائے جس پر سماعت 5جولائی تک ملتوی کردی گئی۔