|
| ٹوکیو کانفرنس،افغانستان کیلئے16ارب ڈالر کی امداد۔پاکستان، افغانستان اور امریکہ اہم اتحادی ہیں،امریکہ پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی لائن کھ |
Sunday, 08 July 2012 20:40:50
ٹوکیو کانفرنس،افغانستان کیلئے16ارب ڈالر کی امداد۔پاکستان، افغانستان اور امریکہ اہم اتحادی ہیں،امریکہ پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی لائن کھولنے کا خیر مقدم کرتا ہے دونوں اتحادیوں کے درمیان مشکل تعلقات کا دور ختم ہوگا ،، ہیلری۔ پاکستان خطے میں قیام امن کےلئے عالمی برادی کےساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا،حناربانی، وزیر خارجہ حنا ربانی کی بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا سے ملاقات اہم امور پر گفتگو ٹوکیو(یو این اے)08 جولائی 2012 ئ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اہم جنگ لڑ رہا ہے، حنا ربانی کھر نے ملکی خود مختاری کا احترام کرنے کا مطالبہ کردیا، ٹوکیو کانفرنس میں عالمی برادری نے افغانستان کے لئے سولہ ارب ڈالر امداد کے وعدے کرلئے۔امریکی وزیر خارجہ نے ٹوکیو میں جاپانی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ پاکستان کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف مشترکہ کارروائیاں جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر امریکا اور پاک افغان وزرائے خارجہ کی ملاقات بھی ہوئی۔ ملاقات میں پاک، امر یکا تعلقات اور افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان اور امریکہ نے باہمی تعلقات کو نئے خطوط پر استوار کرنے اور باہمی مفاہمت بڑھانے پر اتفاق کیا۔یو این اے کے مطابق امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی لائن کی بحالی کا بھرپور خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاک امریکہ تعلقات کا مشکل دور ختم ہوگا اور وسیع البنیاد شراکت داری میں پیش رفت ہوگی۔ امریکی وزیر خارجہ کی پاکستانی ہم منصب حنا ربانی کھر سے اتوار کو ملاقات ہوئی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات، افغانستان کی صورت حال اور نیٹو سپلائی لائن بحالی کے بعد کے حالات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ہیلری کلنٹن نے وزیر خارجہ کو امریکہ کے دورے کی دعوت بھی دی جو انہوں نے قبول کر لی۔ دونوں رہنماﺅں کے درمیان وفود کی سطح پر ملاقات سے قبل کچھ دیر ون آن ون ملاقات ہوئی جس میں باہمی تعلقات کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ تعلقات کے بعد امریکی وزیر خارجہ نے میڈیا کو بتایا کہ امریکہ پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی لائن کھولنے کا خیر مقدم کرتا ہے اس سے دونوں اتحادیوں کے درمیان مشکل تعلقات کا دور ختم ہوگا اور وسیع البنیاد تعاون کی راہیں کھلیں گی۔ امریکی وزیر خارجہ کی طرف سے سلالہ چوکی پر ہونے والے حملے پر معافی کے بعد نیٹو سپلائی لائن کھولنے کے بعد سے حنا ربانی کھر سے یہ پہلی ملاقات تھی۔ نیٹو سپلائی لائن تقریباً 7 ماہ تک بند رکھی گئی۔ ہیلری کلنٹن نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ اس بات سے ہماری حوصلہ افزائی ہوئی ہے کہ ہم نے مشکلات کو پیچھے چھوڑ دیا ہے اور آنے والے چیلنجوں کا سامنا کریں گے۔ حالیہ سمجھوتے کے بعد پیدا ہونے والے مثبت مواقع سے ہم بھرپور فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں جس سے دونوں ملکوں کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سب سے اہم عسکری گروپوں کے خلاف جنگ ہے جو پاکستان کو امریکی فوجیوں پر حملے کے لئے اڈے کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور یہ لوگ افغانستان کے مستقبل کو بھی متاثر کر تے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں ہم دونوں نے دہشت گردوں کو شکست دینے کی ضرورت پر زور دیا جو پاکستان، افغانستان میں استحکام اور امریکی مفادات کیلئے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حنا ربانی کھر سے افغانستان میں مصالحت کیلئے جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ پاکستان طالبان اور دیگر گروپوں کو تشدد روکنے اور سیاسی بات چیت میں شمولیت اختیار کرنے پر رضامند کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے اقتصادی تعلقات پر بھی تبادلہ خیال کیا اور امریکی وزیر خارجہ نے اتفاق کیا کہ اس ضمن میں پیش رفت ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہم سخت سوال و جواب کر رہے ہیں یہ امریکہ اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت میں افغان مفاہمت کا معاملہ بھی زیر غور آیا انھوں نے بتایا کہ ملاقات میں پاکستان کے لیے معاشی امداد کا معاملہ زیر غور آیا ھے انھوں نے پاک امریکا تعلقات کو اہم قرار دیا انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کے لیے امداد کی جگہ تجارت بڑھانے کے فارمولے پر امریکا کام کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں جاری امن کی حمایت کرتا ہے اور وہاں امن اور اقتدار کی پر امن منتقلی چاہتا ہے انھوں نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف اہم جنگ میں مصروف ہے۔ دریں اثناءوزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے افغانستان کے بارے میں ٹوکیو کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان خطے میں قیام امن کے لیے عالمی برادی کے ساتھ مل کر کوششیں جاری رکھے گا۔ حنا ربانی کھر کا کہنا تھا افغانستان میں امن کا قیام اور سیاسی استحکام پاکستان کی سلامتی اور ترقی کے لیے انتہائی ضروری ہے. وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا کہ افغانستان میں امن کے لیے معاشی استحکام کی ضرورت ہے جس کے لیے عالمی برادری کو کردار ادا کرنا چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری پاکستان کی خودمختاری کا بھی احترام کرے، عالمی برادری کی توجہ سے خطے کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔یو این اے کے مطابق ٹوکیو میں جاری دو روزہ افغان ڈونرز کانفرنس میں پاکستانی وزیر خارجہ حنا ربانی کھر سے ان کے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا نے ملاقات کی ہے۔دونوں رہنماﺅں کے درمیان ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور دہشتگردی جیسے اہم مسئلے پر بھی بات چیت کی گئی۔ پاک بھارت وزرائے خارجہ کی ملاقات کے دوران آئندہ ماہ اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس پر بھی اہم گفتگو کی گئی۔ دونوں رہنماوں نے اتفاق کیا کہ پاک بھارت امن کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے مذاکرات کے ذریعے باہمی تنازعات طے کرنا ناگزیر ہے اور دونوں ملک مذاکرات یہ سلسلہ جاری رکھیں گے
|
 |
|