Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

دفاع پاکستان کونسل کا نیٹو سپلائی کی بحالی کیخلاف لانگ مارچ۔ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے، ڈاکٹر وسیم،لانگ مارچ کا آغاز کر


Sunday, 08 July 2012   20:42:17

دفاع پاکستان کونسل کا نیٹو سپلائی کی بحالی کیخلاف لانگ مارچ۔ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے، ڈاکٹر وسیم،لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے اور اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک نیٹو سپلائی روکی نہیں جاتی،مولانا سمیع الحق۔ موجودہ حکمران امریکی غلام ہیں ان سے نجات ہی ملک کی نجات ہے،منور حسن،پوری قوم حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر آجائے،شیخ رشید لانگ مارچ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو
لاہور(یو این اے)08 جولائی 2012 ئ
امیر جماعت اسلامی پنجاب ڈاکٹر سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز نہیں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون رائج ہے۔ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ آئین کی بالادستی مہذب معاشروں کی ترقی کا راز ہے جوپارلیمنٹ کو ہرادارے پر فوقیت دیتے ہیں وہ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے نیٹو سپلائی کی بحالی اجتماعی خودکشی کے مترادف ہے۔پاکستان کی آزادی،خودمختاری اور سلامتی سب کچھ داو پر لگا دیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ دفاع کونسل پاکستان کا لانگ مارچ18کروڑ عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔جماعت اسلامی شروع دن سے وطن عزیز میں امریکی مداخلت کے خلاف آواز اٹھارہی ہے۔ملک کے 98فیصد لوگ امریکی غلامی سے جان چھڑانا چاہتے ہیں مگر مٹھی بھر حکمرانوں نے پوری قوم کو یرغمال بنا یا ہوا ہے۔یو این اے کے مطابق دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے نیٹو سپلائی کی بحالی کے خلاف لاہور سے اسلام آباد تک لانگ مارچ میں انسانوں کا ٹھاٹیں مارتا سمند امڈ آیا۔ طلباء، وکلائ، تاجروں، سول سوسائٹی اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شرکاءہزاروں گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، کاروں، بسوں، ویگنوں اور دیگر سواریوں پر قافلوں کی صورت میں ناصر باغ پہنچے تو دور دور تک ہر طرف گاڑیوں کی لمبی قطاریں اور کلمہ طیبہ والے پرچم لہراتے نظر آئے۔ دفاع پاکستان کونسل میں شامل جماعتوں جماعة الدعوة، جماعت اسلامی، جمعیت اہلحدیث، جمعیت علماءاسلام (س)، اہلسنت والجماعت اور دیگر جماعتوں کے کارکنوں کی بڑی تعداد صبح آٹھ بجے ہی مسجد شہداءمال روڈ پہنچنا شروع ہوگئی تھی۔ ساڑھے نو بجے تک ایک بہت بڑا جم غفیر مال روڈ پر جمع ہوچکا تھا۔ اس موقع پر زبردست جذباتی کیفیت دیکھنے میں آئے، امریکہ اور نیٹو مخالف شدید نعرے بازی کی جاتی رہی، لانگ مارچ کے موقع پر جماعت الدعوة نے زبردست قوت کا اظہار کیا۔ سب سے زیادہ کارکنان کی تعداد بھی جماعت الدعوة کی تھی۔ مولانا سمیع الحق، حافظ محمد سعید، سید منور حسن، جنرل( ر) حمید گل، شیخ رشید احمد، حافظ عبدالرحمان مکی، لیاقت بلوچ، فضل الرحمان خلیل، خادم حسین ڈھلوں اور دیگر نے مسجد شہداءپہنچ کر نوافل ادا کئے اور لانگ مارچ کی بخیر و عافیت اور حصول مقاصد کیلئے دعا کی گئی۔ بعدازاں مذکورہ قائدین کی قیات میں شرکاءکے اس بہت بڑے قافلہ نے ناصر باغ کی طرف بڑھتے ہوئے لانگ مارچ کا آغاز کیا۔ جماعة الدعوة کے تین ہزار سے زائد رضا کاروں نے لانگ مارچ کی مکمل سکیورٹی کے فرائض انجام دیئے، سکیورٹی ٹیم کی جانب سے خصوصی طور پر گاڑیوں پر کلوز سرکٹ سکیورٹی کیمرے نصب کر کے لانگ مارچ کو مکمل طور پر مانیٹر کیا۔ شدید رش اور شرکاءکے جوش و خروش کے باعث لانگ مارچ کے شرکا شہداء مسجد سے ناصر باغ تک دو گھنٹے میں پہنچے جہاں پروفیسر حافظ محمد سعید، مولانا سمیع الحق، سید منور حسن، جنرل حمید گل نے خطا ب کیا اور اسلام آباد کی جانب مارچ کا باقاعدہ آغاز کیا گیا۔ شاہدرہ پہنچنے پر شیخوپورہ اور گرد و نواح سے آئے ہوئے جماعت الدعوة کے ہزاروں کارکنوں نے لانگ مارچ کا پرجوش استقبال کیا اور قائدین پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں۔ مقامی تاجروں اور مختلف علاقوں کے رہائشیوں کی جانب سے بھی لانگ مارچ کا پرجوش استقبال کیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے شرکاءسے بھرپور انداز میں یک جہتی کا اظہار کیا۔ لوگ دکانوں اور گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر امریکہ اور نیٹو فورسز کے خلاف لگائے جانے والے نعروں کے جوابات دیتے رہے۔ مولانا سمیع الحق، حافظ محمد سعید، سید منور حسن، عبدالرحمن مکی، لیاقت بلوچ مولانا امیر حمزہ، خادم حسین ڈھلوں قاری یعقوب شیخ و ددیگر خصوصی طور پر تیار کردہ ٹرک پر سوار ہو کر قیادت کرتے رہے۔ ناصر باغ سے شاہدرہ تک لوگ شرکاءپر پھولوں کی پتیاں نچھاور کرتے رہے۔ پولیس کی بھاری نفری بھی ساتھ ساتھ موجود رہی۔یو این اے کے مطابق دفاع پاکستان کونسل کے قائدین نے کہا ہے کہ نیٹو سپلائی کی بحالی ملک کی سالمیت اور خود مختاری کےخلاف سازش ہے۔ قوم لانگ مارچ کو کامیاب بنانے اور حکمرانوں سے نجات کیلئے اٹھ کھڑی ہوں۔ نیٹو سپلائی بحالی کو روکنے کیلئے سپلائی روٹس پر غیر معینہ مدت تک احتجاجی دھرنے بھی دیں گے۔ نواز شریف، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کو بھی لانگ مارچ میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں، حکمران موٹر وے پر آ جائیں اور پوری قوم حکمرانوں کیخلاف سڑکوں پر آ جائے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن نے کہا نواز شریف، عمران خان اور مولانا فضل الرحمن کو بھی لانگ مارچ میں شریک ہونا چاہئے، موجودہ حکمران امریکی غلام ہیں ان سے نجات میں ہی ملک کی نجات ہے۔ جماعة الدعوة کے سربراہ حافظ سعید نے بھی عوام سے اپیل کی کہ وہ لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے اس میں بھر پور شرکت کریں تاکہ ملک کو امریکی غلامی سے بچایا اور حکومت کو نیٹو سپلائی روکنے پر مجبور کیا جائے۔اتوار کے روز لاہور سے لانگ مارچ کی روانگی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے دفاع پاکستان کونسل کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ہم نے لانگ مارچ کا آغاز کر دیا ہے اور اس وقت تک جدوجہد جاری رکھیں گے جب تک نیٹو سپلائی روکی نہیں جاتی اور ملک کو امریکہ سے نجات نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی جانوں کی پرواہ نہیں ملک کو بچانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک نیٹو سپلائی نہیں روکی جائیگی اس وقت ہم سڑکوں پر رہیں گے اور چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کرنا کوئی غیر آئینی کام نہیں بلکہ یہ ہمارا جمہوری اور آئینی حق ہے جس کو ہم استعمال کرتے رہیں گے۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ عوام کو چاہئے کہ وہ لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کیلئے اٹھ کھڑی ہو اور موجودہ حکمرانوں سے نجات میں ہی ملکی مسائل کا حل اور ملک کا تحفظ ممکن ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم حکمرانوں کے خلاف سڑکوں پر آجائے