Quran | Hadith | Seerat | Columns  | Newspapers  |  Photos   |E-Library |

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مضبوط، فعال اور آزادانہ دوطرفہ تعلقات کی بدولت خطے کے استحکام اور خوشحالی میں مدد ملے گی ، دونوں جانب نے سلا


Friday, 20 July 2012   10:58:28

پاکستان اور افغانستان کے درمیان مضبوط، فعال اور آزادانہ دوطرفہ تعلقات کی بدولت خطے کے استحکام اور خوشحالی میں مدد ملے گی ، دونوں جانب نے سلامتی، ترقی، ٹرانزٹ ٹریڈ، اقتصادی اور سرمایہ کاری رابطوں، کان کنی، انفراسٹرکچر، توانائی اور عوامی رابطوں کے شعبوں میں مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور افغان صدر حامد کرزئی کے درمیان تفصیلی مذاکرات اور مشترکہ اعلامیہ
 کابل ۔ 19 جولائی (اے پی پی) وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اور افغان صدر حامد کرزئی نے اتفاق کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مضبوط، فعال اور آزادانہ دوطرفہ تعلقات کی بدولت خطے کے استحکام اور خوشحالی میں مدد ملے گی جبکہ دونوں جانب نے سلامتی، ترقی، ٹرانزٹ ٹریڈ، اقتصادی اور سرمایہ کاری رابطوں، کان کنی، انفراسٹرکچر، توانائی اور عوامی رابطوں کے شعبوں میں مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ وزیراعظم پرویز اشرف نے افغان صدر حامد کرزئی کی دعوت پر اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ جمعرات کو کابل کا ایک روزہ دورہ کیا اور افغان صدر اور ان کے وفد کے ساتھ تفصیلی مذاکرات کئے۔ مذاکرات کے بعد جاری مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ صدر کرزئی نے وزیراعظم پرویز اشرف کو مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون جاری رکھنے کیلئے اپنی حکومت کے مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔ دونوں رہنماﺅں نے دوطرفہ تعاون سے متعلق مختلف معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا اور دونوں ممالک کے درمیان تاریخ، ثقافت اور مذہب کے رشتوں کا اعادہ کیا۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے علاقائی امن و سلامتی کو آگے بڑھانے کیلئے ایک بار پھر اپنے مشترکہ وژن کا عزم کیا اور ہر قسم کی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماﺅں نے افغان امن کے عمل پر تفصیل سے بات چیت کی اور افغانستان کی اپنی قیادت میں امن اور مفاہمت کے عمل کیلئے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جس میں طالبان حزب اسلامی اور دیگر مسلح اپوزیشن گروپ شامل ہوں۔ مشترکہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماﺅں نے افغانستان میں دیر پا امن کے قیام اور تشدد کے خاتمے کیلئے افغان عوام کی خواہش اور عزم پر بات کی جس کا اعادہ 2010ءکے امن جرگہ اور 2011ءکے روایتی لویہ جرگہ میں کیا گیا اور زور دیا کہ اس سلسلے میں نتیجہ خیز علاقائی اور عالمی تعاون کی ضرورت ہے اس حوالے سے انہوں نے امید ظاہر کی کہ افغان امن کے عمل کیلئے پاکستان کے تعاون سے افغانستان میں دیر پا امن اور استحکام میں مدد ملے گی۔ افغان صدر نے افغان امن کے عمل کی حمایت کیلئے اقدامات کو سراہا جن میں پاکستان کی جانب سے افغان مسلح اپوزیشن گروپوں کو مفاہمت کے عمل میں حصہ لینے کی اپیل شامل ہے۔ وزیراعظم پاکستان نے افغانستان کی اپنی قیادت میں امن کے عمل کی حمایت کا اعادہ کیا اور افغان گروپوں کے درمیان براہ راست رابطوں اور مذاکرات میں مدد دینے کیلئے کوششیں دگنا کرنے کے عزم پر زور دیا۔ دونوں رہنماﺅں نے افغان امن اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے مزید ٹھوس اقدامات کا وعدہ کیا اور اتفاق کیا کہ امن اور مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے ایک سازگار ماحول میں مدد دیں گے۔ مشترکہ اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماﺅں نے افغان طالبان اور دیگر مسلح اپوزیشن گروپوں کے ساتھ رابطوں کے مختلف ذرائع جاری رکھنے کی اہمیت تسلیم کی اور اس حوالے سے افغان امن کے عمل کیلئے عالمی حمایت پر زور دیا اور خاص طور پر سعودی عرب، ترکی اور دیگر ممالک کی کوششوں کا خیر مقدم کیا۔ افغان امن کے عمل کی حمایت کیلئے کوششوں کے بروقت تسلسل کو یقینی بنانے کیلئے دونوں رہنماﺅں نے افغان اعلیٰ امن کونسل کے کردار پر روشنی ڈالی اور افغانستان پاکستان امن کمیشن کے اجلاس باقاعدگی سے بحال کرنے پر اتفاق کیا۔ علاقائی تعاون کو آگے بڑھانے کیلئے دونوں رہنماﺅں نے علاقائی تنظیموں بشمول مختلف سہ فریقی اور چار فریقی عمل کی اہمیت کو تسلیم کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ افغانستان اور اس کے دور اور نزدیک کے پڑوسیوں کے درمیاں منشیات، علاقائی تجارت اور رابطوں جیسے معاملات پر تعاون میں اضافے سے طویل مدتی استحکام اور خوشحالی کیلئے ماحول پیدا ہو گا۔ انہوں نے تاپی گیس پائپ لائن پراجیکٹ اور کاسا 1000 ٹرانسمیشن لائن پر فوری عملدرآمد کی اہمیت اور دونوں ممالک کے درمیان ریل اور سڑک کے رابطے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ افغان صدر نے کئی دہائیوں سے افغان پناہ گزینوں کی مہربانی پر اپنی حکومت کے تشکر کا اظہار کیا۔