|
| عوام نے جن کو حق نمائندگی دیا ہے انہیں حق حاکمیت حاصل ہے‘ عوام کی رائے کے اظہار کا حق پارلیمنٹ میں بیٹھے ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے‘ ہم عد |
Wednesday, 25 July 2012 09:39:54
عوام نے جن کو حق نمائندگی دیا ہے انہیں حق حاکمیت حاصل ہے‘ عوام کی رائے کے اظہار کا حق پارلیمنٹ میں بیٹھے ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے‘ ہم عدالتوں کی توہین نہیں کرتے بلکہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ آئندہ انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خاندان پر الزامات لگا کر ان کی کردار کشی کی جارہی ہے، ملتان کے ضمنی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے باقی تمام سیاسی قوتوں کی مخالفت کے باوجود فتح حاصل کی۔وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ کا نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال اسلام آباد ۔ 24 جولائی (اے پی پی) وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات قمر زمان کائرہ نے کہا ہے کہ عوام نے جن کو حق نمائندگی دیا ہے انہیں حق حاکمیت حاصل ہے‘ عوام کی رائے کے اظہار کا حق پارلیمنٹ میں بیٹھے ان کے منتخب نمائندوں کے پاس ہے‘ ہم عدالتوں کی توہین نہیں کرتے بلکہ ان کا احترام کرتے ہیں۔ آئندہ انتخابات اپنے وقت پر ہوں گے۔ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے خاندان پر الزامات لگا کر ان کی کردار کشی کی جارہی ہے۔ ملتان کے ضمنی انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے باقی تمام سیاسی قوتوں کی مخالفت کے باوجود فتح حاصل کی۔ منگل کو نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے آئین کی پاسداری کی‘ ہم نے ان کے بارے میں عدالتی فیصلہ تسلیم کیا۔ سوئس حکام کو خط لکھنے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا کہ خط نہیں لکھیں گے۔ ہم عدالتوں کی توہین نہیں کرتے بلکہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں۔ ہم تحفظات کے باوجود عدلیہ کے فیصلوں پر عمل کرتے ہیں‘ پیپلز پارٹی نے ذوالفقار علی بھٹو شہید سے لے کر اب تک عدالتی فیصلوں پر عمل کیا ہے۔ہمارا عدالتوں سے تصادم نہیں ہوتا۔ اس بیان میں میں نے کہا تھا کہ وزیراعظم کے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن‘ اٹارنی جنرل اور پیپلز پارٹی کا موقف ہے کہ صدر کے عہدے کو استثنیٰ حاصل ہے جب تک آصف علی زرداری صدر ہیں ان کے خلاف خط نہیں لکھا جاسکتا۔ فرانس میں نکولس سرکوزی جب تک صدر رہے ان کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی‘ جب وہ اقتدار سے الگ ہوئے ان کے خلاف کارروائی کی گئی۔ میرا بیان تھا کہ صدر کے استثنیٰ کی وجہ سے یہ خط نہیں لکھا جاسکتا۔ ایک اور سوال کے جواب میں قمر زمان کائرہ نے کہا کہ عوام کی رائے حتمی ہوتی ہے‘ ہمارے آئین کے مطابق اقتدار اعلیٰ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اللہ تعالیٰ کے اس اختیار کو عوام استعمال کرتے ہیں اور عوام یہ اختیار پارلیمنٹ میں اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے استعمال کرتے ہیں۔ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اپنے حلقہ کے عوام کی اکثریت کے نمائندے ہیں‘ میں بھی 90 ہزار لوگوں کا نمائندہ ہوں۔ اگر میڈیا میں آنے والے انٹرویو عوامی رائے ہیں تو اسمبلیوں کو بند کردینا چاہیے۔ عوام کے نمائندے میڈیا کے ٹاک شوز کے ذریعے منتخب نہیں کئے جاسکتے۔ عوام نے سیاستدانوں کو ووٹ دے کر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ آئین و قانون کے تحت عوام کے اظہار رائے کے لئے انتخابات ہی واحد راستہ ہیں۔ کوئی سیاستدانوں سے عوام کی نمائندگی کا حق نہیں چھین سکتا۔ آج کل اس بارے میں بہت سے سیمینار ہو رہے ہیں۔جسٹس رمدے کو مان لینا چاہیے کہ اب وہ جج نہیں رہے۔ ملتان کے ضمنی انتخاب کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کی کامیابی کے بارے میں بلاجواز پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ گزشتہ انتخابات 2008ءکے انتخابات میں پہلی بار سید یوسف رضا گیلانی اس نشست پر جیتے‘ ضمنی انتخابات میں مسلم لیگ (ن)‘ جماعت اسلامی‘ تحریک انصاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے پیپلز پارٹی کے امیدوار کی مخالفت کی۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خاندان پر الزامات لگا کر ان کی کردار کشی کی جارہی ہے‘ یہ اخلاقیات کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی چار سال سے زائد عرصہ پاکستان کے وزیراعظم رہے ہیں۔ انتخابات کے روز میڈیا نے ان پر کیچڑ اچھالا ۔ تمام سیاسی جماعتوں اور میڈیا کی مخالفت کے باوجود پیپلز پارٹی نے اس نشست پر فتح حاصل کی۔ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں بھی بھاری اکثریت سے جیتے گی۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میاں برادران کے خلاف کھلنے والے کیسز سیاسی انتقام نہیں ہے۔ ان کیسز کے بارے میں فیصلہ حکومت نے نہیں عدلیہ نے کرنا ہے‘ حکومت مفاہمتی پالیسی پر عمل پیرا ہے، ہمارے دور حکومت میں کوئی سیاسی قیدی نہیں ہے،مسلم لیگ (ن) نے قومی معاملات میں حکومت کا ساتھ دیا ہے۔
|
 |
|