|
| غیر آئینی اقدامات کا دور گزر گیا،طاہر القادری سیاستدانوں کو گالیاں نہ دیں ، جواب دینا ہمیں بھی آتا ہے ، ان کے مطالبات کسی کی سمجھ میں نہیں آئے |
Wednesday, 16 January 2013 22:29:42
غیر آئینی اقدامات کا دور گزر گیا،طاہر القادری سیاستدانوں کو گالیاں نہ دیں ، جواب دینا ہمیں بھی آتا ہے ، ان کے مطالبات کسی کی سمجھ میں نہیں آئے،کائرہ نگران حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے ہی بنے گی ،چیف الیکشن کمشنر کو بوڑھا اور کمزور کہنا سمجھ سے بالاتر ہیں ، انہوں نے کشتی نہیں لڑنی بلکہ الیکشن کروانا ہے۔ طاہر القادری سیاسی جماعت رجسٹرڈ کروا کے الیکشن لڑیں اور دو تہائی اکثریت حاصل کرکے پارلیمنٹ کے ذریعے تبدیلی لائیں ، خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال نہ کریں۔پچاس فٹ کی سڑک پر پچاس لاکھ کا مجمع صرف طاہر القادری کا کرشمہ ہوسکتا ہے کینیڈا کی شہریت چھوڑ کر خود صادق اور امین بنےں پھر دوسروں کو اخلاقیات کا لیکچر دیںقادری صاحب کو مٹھی کھول دینی چاہیے کہ ان کے ہاتھ میں کون سا مصالحہ ہے۔ سیون سٹار بنکر میں بیٹھ کر خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کو ٹھنڈ میں نہ ماریں ۔وزیراعظم کی گرفتاری کے عدالتی حکم پر قانون کے مطابق عملدرآمد ہوگا ۔وفاقی وزیراطلاعات کی پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو اسلام آباد( آن لائن )وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات قمر زمان کائرہ نے تحریک منہاج القرآن کے سربراہ طاہر القادری کو زبردست تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ غیر آئینی اقدامات کا دور گزر گیا، اب مخصوص الیکشن کمشن کے ذریعے مخصوص نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے،وہ سیاستدانوں کو گالیاں نہ دیں ، جواب دینا ہمیں بھی آتا ہے ، ان کے مطالبات اب تک کسی کی سمجھ میں نہیں آئے، نگران حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے ہی بنے گی ،چیف الیکشن کمشنر کو بوڑھا اور کمزور کہنا سمجھ سے بالاتر ہیں ، انہوں نے کشتی نہیں لڑنی بلکہ الیکشن کروانا ہے ، طاہر القادری سیاسی جماعت رجسٹرڈ کروا کے الیکشن لڑیں اور دو تہائی اکثریت حاصل کرکے پارلیمنٹ کے ذریعے تبدیلی لائیں ، خواتین اور بچوں کو ڈھال کے طور پر استعمال نہ کیاجائے ، وہ جتنا زیادہ بول رہے ہیں ان کی اصلیت سامنے آرہی ہے ، پچاس فٹ کی سڑک پر پچاس لاکھ کا مجمع صرف طاہر القادری کا کرشمہ ہوسکتا ہے ، پہلے وہ کینیڈا کی شہریت چھوڑ کر خود صادق اور امین بنےں پھر دوسروں کو اخلاقیات کا لیکچر دیں،قادری صاحب کو اب مٹھی کھول دینی چاہیے تاکہ پتہ چل سکے ان کے ہاتھ میں کون سا مصالحہ ہے ، سیون سٹار بنکر میں بیٹھ کر خواتین ، بچوں اور بوڑھوں کو ٹھنڈ میں نہ ماریں ، سیاست نہیں ریاست بچاﺅ کی ضیاءالحق والی سوچ اب طاہر القادری میں آگئی ہے، وزیراعظم کی گرفتاری کے عدالتی حکم پر قانون کے مطابق عملدرآمد ہوگا ۔وہ بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاﺅس کے باہر میڈیا سے گفتگو کررہے تھے۔اس موقع پر وزیر مملکت برائے اطلاعات سیدصمصام بخاری ، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی اور پیپلز لیبر بیورو کے چیئرمین چوہدری منظور بھی ان کے ہمراہ تھے ۔ قمرزمان کائرہ نے کہا کہ طاہر القادری کے مطالبات ہر روز بیانات بدل رہے ہیں لاہور میں انہوں نے کہا کہ اسلام آباد پہنچ کر مطالبات کا اعلان کرینگے اسلام آباد پہنچ کر کہا کل کرینگے ، آج انہوں نے چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا ہے جس کی پوری قوم سمیت کسی کو سمجھ نہیں آئی۔ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ ان کے مطالبات کیا ہیں مولوی طاہر القادری اپنی مٹھی کھول دیں تاکہ پتہ چل سکے ان کے ہاتھ میں کیا مصالحہ ہے۔طاہر القادری کی گفتگو اور لہجے پر سخت تنقید کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ ان کو اپنے اعصاب پر قابو نہیں رہا ان کا لہجہ اور باتیں درست نہیں طاہر القادری اپنی زبان اور اعصاب کو قابو میں رکھیں اگر ہم نے بھی وہی لہجہ اپنایا تو پھر اچھا نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ طاہر القادری سیاستدانوں کو گالیاں نہ دیں ورنہ جواب دینا ہمیں بھی آتا ہے،طاہر القادری کے مطالبات غیر آئینی ہیں وہ بتائیں کہ الیکشن کمیشن کو تحلیل کرکے دوبارہ کیسے تشکیل دیا جائے اگر اسمبلیاں تحلیل ہوگئیں تو پھر انتخابی قوانین کون بنائے گا۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ طاہر القادری کے پاس کسی مسئلے کا کوئی حل موجود نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ طاہر القادری چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم کو بوڑھا شخص کہتے ہیں،کیا چیف الیکشن کمشنر کے طور پر بھولو پہلوان کو ہونا چاہیے چیف الیکشن کمشنر سے کشتی نہیں لڑوانی بلکہ آئین کے مطابق انہوں نے الیکشن کا انعقاد کرنا ہے،ہمسایہ ملک جو بڑی جمہوریت ہے وہاں وزیراعظم بھی 80سال سے زائد عمر کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں نگران حکومت کی تشکیل کا طریقہ کار درج ہے اور وہ بھی پارلیمنٹ سے ہی بنے گی پھر الیکشن کمیشن نگران حکومت تشکیل دے سکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اب چیف الیکشن کمشنر اور صوبائی الیکشن کمشنرز کو اپنی مرضی سے عہدے سے ہٹایا بھی نہیں جاسکتا ان کو ہٹانے کا طریقہ کار آئین میں درج ہے ۔ وزیراطلاعات نے کہا کہ لگتا ایسے ہے کہ مولوی طاہر القادری پرانا احتشام ضمیر والا الیکشن کمیشن چاہتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ پارلیمنٹ میں آسکیں۔انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کو روکنے کے حوالے سے طاہر القادری کے الزامات بے بنیاد ہیں حکومت نے کسی کو نہیں روکا طاہر القادری عورتوں اور بچوں پر رحم کریں اور اتنی سردی میں انہیں گھر جانے دیں۔انہوں نے کہا کہ طاہر القادری نے منہاج القرآن کے ملازمین اور ان کے بیوی بچوں کو ٹھنڈ میں لا کر بٹھایا ہوا ہے وہ کہتے ہیں کہ حکمران بنکر میں بیٹھے ہیں حالانکہ طاہر القادری ا ور ان کے بیٹے خود سیون سٹار بنکر میں بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ دیگر لوگ کھلے آسمان تلے سڑکوں پر پڑے ہیں۔طاہر القادری نے سیاستدانوں کو ٹیکس چور کہا وہ بتائیں وہ خود کتنا ٹیکس دیتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 62اور 63کے تحت صادق اور امین آدمی الیکشن لڑ سکتا ہے لیکن کیا صداقت اور امانت کا سرٹیفکیٹ منہاج القرآن یا مولوی طاہر القادری جاری کریں گے؟ آرٹیکل 62اور 63پر عمل درآمد کروانے کیلئے الیکشن کمیشن اور عدالتیں موجود ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست نہیں ریاست بچاﺅ کا نعرہ ضیاءالحق نے لگایا تھا اور آج طاہر القادری اسی سوچ کو لیکر آگے بڑھ رہے ہیں۔طاہر القادری کو مزید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ مولوی صاحب خود آرٹیکل 62اور 63پر پورے نہیں اترتے وہ آئینی طور پر الیکشن لڑنے کے اہل نہیں، انہیں کینیڈا کی شہریت چھوڑنی چاہئے مگر وہ اس کیلئے تیار نہیں ،ان کی کوئی سیاسی جماعت بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ معصوم بچوں اور عورتوں کو ڈھال کے طور پر استعمال نہ کریں اپنی سیاسی جماعت رجسٹرڈ کروائیں قوم کے سامنے منشور پیش کریں الیکشن لڑیں دو تہائی اکثریت لیں اور پھر اپنی مرضی کی تبدیلی لے آئیں۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری جو کچھ کہتے ہیں وہ عوام کے سامنے ہے پچاس فٹ کی سڑک پر کھڑے لوگوں کو پچاس لاکھ کہنا ان کا ہی کرشمہ ہے۔انہوں نے کہا کہ طاہر القادری شہدائے کربلا کی مثالیں دیکر لوگوں کے جذبات نہ ابھاریں کبھی کہتے ہیں جو جانا چاہتا ہے چلا جائے پھر لوگوں سے حلف لیتے ہیں کہ کوئی چھوڑ کہ نہ جائے ۔ طاہر القادری اب مٹھی کھول دیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ ان کے ہاتھ میں کیا مصالحہ ہے۔ریفرنڈم میں طاہر القادری نے جنرل مشرف کی حمایت کی تھی آج بدلے میں جنرل مشرف ان کی حمایت کررہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے تحریری طور پر سپریم کورٹ کو بتا دیا ہے کہ الیکشن وقت پر آئین کے مطابق ہونگے اسمبلیاں سولہ مارچ کو خود بخود تحلیل ہوجائینگی اور انتخابات وسط مئی میں ہوسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایوان صدر کا اس وقت مثبت کردار ہے جس کی وجہ سے نظام اب تک چل رہا ہے انہوں نے کہا کہ بے نظیر انکم سپرٹ پروگرام پر طاہر القادری کی تنقید بلاجواز ہے اس پروگرام کو عالمی اداروں اور عوام کااعتماد حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری جتنا بولتے جارہے ہیں اتنا ان کی اصلیت سامنے آرہی ہے ۔ وزیراعظم کی گرفتاری کے عدالتی حکم کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے کہا کہ اس فیصلے پر قانون کے مطابق عمل ہوگا پراسکیوٹرز عدالت میں ریفرنس دائر کرینگے اس کے بعد عدالت نیا حکم دے گی
|
 |
|