منتخب کردہ کالم

دوسرا ’بنگلہ دیش‘ ہرگز نہیں……عبدالقادر حسن

  • دنیا میں شاید ہی کوئی ملک ایسا ہو جس کو خود اس کے باشندوں کی مدد سے توڑا جا سکتا ہو البتہ پاکستان واقعتاً ایک ایسا ملک ہے جس کو اس کے اپنے باشندوں کے ذریعے توڑا جا چکا ہے اور دشمنوں کے جاسوس اب باقی ماندہ کو توڑنے کے لیے کوشاں ہیں اور وہ […]

  • ایک اور دھماکہ ہونے تک…امجد اسلام امجد

    بعض حقیقتیں اس قدر تلخ اور کڑوی ہوتی ہیں کہ لاکھ کوشش کے باوجود انھیں نگلنا ممکن نہیں ہوتا، گلشن اقبال لاہور میں ہونے والا دھماکا (جسے ’’سانحہ لاہور‘‘ کا نام دیا گیا) بھی ایک ایسی ہی اعصاب شکن حقیقت ہے جو اب ایک روایت بنتی جا رہی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ضرب […]

  • ایک اور دھرنا ختم ….نذیر ناجی

    میاں نوازشریف کو مبارک ہو کہ ان کے دوراقتدار کا ایک اور دھرنا ختم ہوا۔ مجھے پتہ ہوتا کہ اس احتجاجی تحریک کے آخر میں‘ خواجہ سعد رفیق قدم رنجہ فرمائیں گے‘ تو میں پہلے ہی دن بتادیتا کہ نعرے بازی اور احتجاجی دھرنوں کا سپیشلسٹ میدان میں آ گیا ہے۔ دھرنے والے چھوٹے چھوٹے […]

  • نہیں‘ کالے دن نہیں……نذیر ناجی

    میں پاکستان کے عیسائی لیڈروں کی تحسین کرتا ہوں کہ انہوں نے27مارچ کے سانحہ کو مذہبی تصادم کا نام دینے سے گریز کیا۔ درجن سے زیادہ لاشیں اٹھا کر اپنے گھروں کو لے گئے اور قریباً اتنی ہی ہسپتالوں کے اندر بکھری پڑی ہیں اور جب ورثا لینے کے لئے جاتے ہیں‘ تو انہیں کہہ […]

  • سہانے خواب اورسانحہ گلشن اقبال پارک …عارف نظامی

    اتوار کا دن اہل پاکستان کے لیے انتہائی بھیانک ثا بت ہوا اور جو خد شہ ظا ہر کیا جا رہا تھا کہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والے عنا صر کھل کھیل سکتے ہیںاور وہ کام جو ووٹ کے ذریعے نہیںہو سکا‘ سٹر یٹ پا ور کے ذریعے کیا جائیگا، درست ہوتا نظر […]

  • لاہور میں ملٹری ایکشن یا نیم مارشل لاء…عبدالقادر حسن

    یک زمانہ ہوا کہ لاہور میں باقاعدہ مارشل لاء لگایا گیا تھا۔ یہ مارشل لاء باقاعدہ اس لیے تھا کہ یہ ایک غیر معمولی حرکت یعنی ایک فرقہ وارانہ مسئلے پر قابو پانے کے لیے لگایا گیا تھا۔ میں ان دنوں لاہور میں ایک دینی اور سیاسی جماعت کا ورکر تھا اور میری ڈیوٹی اس […]